لکھنؤ،27/جنوری (ایس او نیوزآئی این ایس انڈیا) اتر پردیش میں شہریت قانون کے نفاذ کے بعد سے ہوئے احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سی اے اے کیخلاف یوپی کے کئی شہروں میں مبینہ مشتعل مظاہرہ دیکھنے کو ملے تھے اور پولیس کی جانب سے سخت’کارروائیوں‘ کے کئی ویڈیو زبھی سامنے آئے تھے۔ کئی شہروں میں مظاہرے کے دوران ہوئے تشدد کی عدالتی جانچ کی مانگ کو لے کر کئی عرضیاں دائر کی گئی تھیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے تمام درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کی اور ریاستی حکومت نے حلف نامہ کے ساتھ جواب داخل کیا، لیکن عدالت ریاستی حکومت کے حلف نامے کے ساتھ مطمئن نہیں ہوئی۔ہائی کورٹ نے کئی نکات پر ریاستی حکومت سے رپورٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پوچھا کہ مظاہرین کی جانب سے اب تک کتنی شکایتیں کی گئی ہیں اور ان میں سے کتنی شکایات پر پولیس نے ایف آئی آر درج کی ہے۔عدالت نے تشدد میں جاں بحق 23 مظاہرین کی موت کی صورت میں درج ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے زخمیوں کی میڈیکل رپورٹ اور تشدد میں زخمی پولیس والوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کی ہے۔ عدالت نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کو پوسٹ مارٹم رپورٹ دینے کا بھی حکم دیا۔معاملہ کی اگلی سماعت اب 17 فروری کو ہوگی۔ ممبئی کے وکیل اجے کمار کی پی آئی ایل، سابق سی آئی سی وجاہت حبیب علہ، سماجی کارکن سوامی اگنی ویش سمیت 14 عرضیوں پر چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس سدھارتھ ورما کے بنچ میں سماعت ہوئی۔